قال اللہ تعالیٰ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ کسی مسلمان کے پوشیدہ عیب کو اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکرکرنا غیبت ہے۔اس کے حرام قرار دینے میں حکمت مؤمن کی عزّت کی حفاظت ميں مبالَغہ کرنا ہے اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی عزّت و حرمت اور اس کے حُقُوق کی بَہُت زیادہ تاکيد ہے، نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی عزّت کو گوشت اور خون کے ساتھ تَشبیہ دے کر مزید پختہ و مُؤَکَّد کر دیا اور اس کے ساتھ ہی مبالَغہ کرتے ہوئے اسے مُردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مُتَرادِف قرار دیاعزّت کو گوشت سے تَشبيہ دینے کی وجہ يہ ہے کہ انسان کی بے عزّتی کرنے سے وہ ایسی ہی تکليف محسوس کرتا ہے جيسا کہ اس کا گوشت کاٹ کر کھانے سے اس کا بدن درد محسوس کرتا ہے بلکہ اس سے بھی زيادہ۔ کيونکہ عقلمند کے نزديک مسلمان کی عزّت کی قيمت خون اور گوشت سے بڑھ کر ہے۔سمجھدار آدمی جس طرح لوگوں کا گوشت کھانا اچّھا نہيں سمجھتا اسی طرح ان کی عزّت پامال کرنا بدرجہ اَولیٰ اچھا تصوُّر نہيں کرتا کيونکہ يہ ایک تکليف دِہ اَمر(یعنی مُعامَلہ)ہے اور پھر اپنے بھائی کا گوشت کھانے کی تاکيد لگانے کی وجہ يہ ہے کہ کسی کے لئے اپنے بھائی کا گوشت کھانا تو بَہُت دور کی بات ہے (معمولی سا)چبانا بھی ممکن نہيں ہوتا
main theme in Surah Al-Baqarah (2:30-37)
( Briefly describe the main theme(s) in Surah Al-Baqarah (2:30-37 ) The main themes of these verses are the superiority of Hazrat Adam (A.S) over Angels and about the nature of Iblis (satan). Hazrat Adam's superiority was due to knowledge. These verses tell us that Allah (swt) gives knowledge to the one of his own choice. Allah (swt) commanded all the angels to prostrate to Adam (A.S). All the angels prostrated, but iblis (satan) did not prostrate. Allah (swt) asked him that why did you not prostrate to Adam? In response, he started giving foolish arguments in his opinion that ‘’I am made of fire and he is made of clay.’’ (Sureh Al-Aaraf:12) Satan's Revenge Hazrat Adam (A.S) and Hazrat Hawwa (R.A) lived in paradise. They were not allowed to eat the fruit of a certain tree. iblis (satan) told Hazrat Adam (A.S) that after eating the fruit of this tree, you will get eternal life. Hazrat Adam (A.S) refused, so he made his point firm. He swore a fa...
بہت خوب
ReplyDelete