دوستی کہتے ہیں کہ کسی شخص کے اخلاق و کردار کے بارے میں جاننا ہو تو اس کے دوستوں کو دیکھ لیا جائے کیوں کہ’’دوستی‘‘ انسان کی شخصیت پر بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے۔فی زمانہ لوگوں نے دوستی کے مختلف معیار بنا رکھے ہیں۔ چنانچہ کسی کو ہنسی مذاق اور خوب باتیں کرنے والا دوست اچھا لگتا ہے تو کسی کو خوب سیر و تفریح کرنے والا دوست پسند ہوتا ہے کوئی مال و دولت کی وجہ سے دوستی بناتا ہے تو کوئی حسن و جمال کی وجہ سے۔ کسی کی دوستی صرف اسٹوڈنٹ لائف تک قائم رہتی ہے تو کسی کی ملازمت سے شروع ہو کر ملازمت ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔یوں کہیے کہ مال و دولت،حسن و جمال اور خواہشات دوستی کے محرکات ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا پیارا دین اسلام اس سلسلےمیں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے ؟چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ( ۱۱۹ ) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کی صحبت اختیار کرو۔ (التوبہ آیت 119) اللہ پاک کے آخری نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ...
Posts
Showing posts from February, 2021