دوستی
کہتے ہیں کہ کسی شخص کے اخلاق و کردار کے بارے میں جاننا ہو
تو اس کے دوستوں کو دیکھ لیا جائے کیوں
کہ’’دوستی‘‘ انسان کی شخصیت پر بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے۔فی زمانہ لوگوں نے
دوستی کے مختلف معیار بنا رکھے ہیں۔ چنانچہ کسی کو ہنسی مذاق اور خوب باتیں کرنے
والا دوست اچھا لگتا ہے تو کسی کو خوب سیر و تفریح کرنے والا دوست پسند ہوتا ہے
کوئی مال و دولت کی وجہ سے دوستی بناتا ہے
تو کوئی حسن و جمال کی وجہ سے۔ کسی کی دوستی صرف اسٹوڈنٹ لائف تک قائم رہتی ہے تو
کسی کی ملازمت سے شروع ہو کر ملازمت ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔یوں کہیے کہ مال و دولت،حسن و جمال اور خواہشات دوستی کے محرکات
ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا پیارا دین اسلام اس سلسلےمیں ہماری کیا
رہنمائی کرتا ہے ؟چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹)
ترجمہ: اے
ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کی صحبت اختیار کرو۔ (التوبہ آیت 119)
اللہ پاک کے آخری نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: الْمَرْءُ عَلَى دِينِ
خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِطُ
’’آدمی اپنے
دوست کے دین پر ہوتا ہے اسے دیکھنا چاہیے کہ کس سے دوستی کرتا ہے‘‘ (مسند امام
احمد ، حدیث 8028)
شرح حدیث:
مفتی احمد یار خان رَحْمَةُ
اللهِ عَلَيْهِ حدیث پاک کے اس حصے ’’آدمی اپنے دوست کے
دین پر ہوتا ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں کہ عمومًا
انسان اپنے دوست کی سیرت و اخلاق اختیار کرلیتا ہے کبھی اس کا مذہب بھی اختیار
کرلیتا ہے لہذا اچھوں سے دوستی رکھو تاکہ تم بھی اچھے بن جاؤ۔ صوفیاء فرماتے ہیں لاتصاحب الا مطیعا ولا تخالل الا تقیا یعنی تم صرف اللہ و رسول کی فرماں برداری کرنے
والے کے ساتھ رہو اور دوستی صرف متقی لوگوں سے کرو۔
مفتی احمد یار خان رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ حدیث پاک کے اس حصے ’’ اسے دیکھنا چاہیے کہ کس سے دوستی کرتا ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں کہکسی سے دوستانہ کرنے سے پہلے اسے جانچ لو کہ
اللہ رسول کا مطیع (فرماں بردار )ہے یا
نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ (یعنی اور سچوں کی صحبت اختیار کرو)صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسانی طبیعت میں اخذ
یعنی لے لینے کی خاصیت سے،حریص کی صحبت سے حرص،زاہد کی صحبت سے زہد و تقویٰ ملے
گا۔(مرآۃ المناجیح ،باب الحب فی اللہ،حدیث847)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اچھی دوستی عبادت میں ترقی کا سبب
بنتی ہے، اچھے دوست ایک دوسرے کو نیک اعمال کی طرف راغب کرتے ہیں، برائیوں سے
روکتے ہیں، اچھے دوستوں کی وجہ سے اخلاق و کردار میں بہتری آتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اچھے دوستوں کی وجہ سے
عقائد و ایمان کی پختگی نصیب ہوتی ہے۔ اس
کے برعکس بد اخلاق و بدکردار شخص کی دوستی انسان کو نیک اعمال سے دور کردیتی ہے ۔ اس طرح آدمی برائیوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے ،اس
کے اخلاق و کردار تباہ ہونے لگتے ہیں نیز ایسے شخص کے عقائد خراب ہوجانے کی صورت
میں اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
اگر ہم یوں کہیں تو غلط نہ ہوگا کہ ایسا شخص جو بااخلاق بھی
ہو اور باکردار بھی، خوب نیکیاں کرتا ہو اور نیکی کی دعوت دیتا ہو۔ گناہوں سے بچتا
ہو اور دوسروں کو بچانے کی کوشش کرتا ہو جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرتا ہو سچ مچ
وہی ’’دوست‘‘ بنانے کے لائق ہے۔ خوش قسمتی سے اگر ایسا دوست میسّر آجائے تو کسی
دنیوی لالچ کے بغیر اس کی صحبت اختیار کرنی چاہیے
۔اپنے بچوں کو بھی ایسوں کے پاس بٹھانا چاہیے کہ اللہ کی رحمت سے ایسی دوستی اللہ پاک کی رضا کے حصول اور جنت میں داخلے کا سبب بن سکتی ہے ۔نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔ
کرام عَلَیْهمُ الرِّضْوَان سے فرمایا: کیا میں تمہیں
اچھے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟صحابہ کرام عَلَیْهمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:کیوں
نہیں!( ہمیں اچھے دوست کے بارے میں بتائیں)۔نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ نے فرمایا:اچھے لوگ و ہ
ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ پاک کی یاد آجائے ۔(سنن ابن ماجہ
،حدیث4119)
محترم والدين !
ہم نے اس مضمون سے دوستی
کا معیار، انسانی شخصیت پر اس کا اثر اور اس کے اچھے برے نتائج کے حوالے سے آگاہی
حاصل کی ۔ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو اچھا
اور باکردار مسلمان بنانے کے لیے وقتاً
فوقتاً گھر میں اچھی صحبت اور دوستی کے حوالے سے ان کی ذہن سازی کرتے ہیں۔ان کے دوستوں کی خبر گیری اور ان کی صحبت پر نظر رکھتے رہیں۔انہیں اچھے لوگوں کی
صحبت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
اگر بچہ ابے تبے، تو تکار، گالی گلوچ اور غیبت و چغلی وغیرہ
پر مشتمل گفتگو کرتا ہو تو والدین اور سرپرستوں کو خبردار ہوجانا
چاہیے ۔ ایسے بچے کو سب سے پہلے اچھا ماحول فراہم کریں۔ بُرے ماحول
سے اسے بچائیں۔ وقتاً فوقتاً اس بچے کو گالی گلوچ اور غیبت و چغلی کے نقصانات
بتائیں۔کڈز مدنی چینل کم از کم 1 گھنٹہ 26
منٹ دکھائیں۔
اللہ پاک کی رحمت سے امید ہے کہ اس طرح آپ کا بچہ برائیوں
سے بچ کر نیکی کرنے اور کروانے والافرد بن
معاشرے میں نمودار ہوگا۔
Comments
Post a Comment