Posts

Permission to Dream, Chris Gardner Summary

گذشتہ شب chris gardner کی کتاب permission to dream مکمل کی، یہ کتاب جگہ بہ جگہ ذہنی غلامی سے آزاد ہونے کی بات کرتی ہے۔یہ ایک محبت بھرا مکالمہ ہے، جو وہ اپنی پوتی Brooks سے کرتے ہیں۔ chris gardner اپنے ذاتی تجربات اور جدوجہد کے ذریعے یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہر انسان کو خواب دیکھنے کی اجازت ہونی چاہیے، اور اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے حوصلہ، محنت اور خود پر یقین ضروری ہے۔ اس کا ایک اقتباس درج ذیل ہے : ’’ خواب دیکھنا ہر انسان کا حق ہے، مگر ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے خود کو اجازت دینی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، ہماری تربیت، معاشرہ یا نظام ہمیں یہ سکھا دیتا ہے کہ جب تک کوئی اور اجازت نہ دے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یہی سوچ ہمیں روک دیتی ہے۔ مگر Gardner ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ ہم خود سے کہیں: ’ہاں، میں کر سکتا ہوں‘۔ اپنی زندگی کے فیصلے دوسروں کے اشاروں پر نہ چھوڑو۔ جو زندگی تم نے اپنے دل میں دیکھی ہے، اس کے لیے کسی اور کی منظوری کا انتظار نہ کرو۔ خود کو اجازت دو، آگے بڑھو — اور وہ بنو جو تم بننا چاہتے ہو۔ ‘‘ مجھےاس کتاب نے بہت سی نئی ...

the importance of the theme(s) in Surah Al-Baqarah (2:30-37) in Muslims lives today

          Briefly explain the importance of the theme(s) in Surah Al-Baqarah (2:30-37)   in Muslims lives today .      The passage teaches us that Hazrat Adam (A.S) was a true and an obedient servant of Allah(swt) while Iblis (satan) disobeyed and argued with God so he was cursed. Muslims learn to resist Iblis (satan) in their daily lives as he has been trying to trap mankind since the creation of Hazrat Adam (A.S), the first man of the world . Muslims understand through the themes in this passage that it is quite possible they mistake but there is more possibility that they are forgiven. However, in their daily lives if they do anything wrong they must turn to him immediately for forgiveness and recite this quranic dua of Hazrat Adam (A.S): "Our Lord, we have wronged ourselves and if you do not forgive us and have mercy upon us we will surely be among losers. " Sureh Al-Aaraf: 23 Simply this passage instills the strength into the he...

main theme in Surah Al-Baqarah (2:30-37)

  (       Briefly describe the main theme(s) in Surah Al-Baqarah (2:30-37 ) The main themes of these verses are the superiority of Hazrat Adam (A.S) over Angels and about the nature of Iblis (satan). Hazrat Adam's superiority was due to knowledge. These verses tell us that Allah (swt) gives knowledge to the one of his own choice. Allah (swt) commanded all the angels to prostrate to Adam (A.S). All the angels prostrated, but iblis (satan) did not prostrate. Allah (swt) asked him that why did you not prostrate to Adam? In response, he started giving foolish arguments in his opinion that ‘’I am made of fire and he is made of clay.’’ (Sureh Al-Aaraf:12) Satan's Revenge Hazrat Adam (A.S) and Hazrat Hawwa (R.A)   lived in paradise. They were not allowed to eat the fruit of a certain tree. iblis (satan) told Hazrat Adam (A.S) that after eating the fruit of this tree, you will get eternal life. Hazrat Adam (A.S) refused, so he made his point firm. He swore a fa...
  متعلم   سادہ تو رُل رُل کے ہوگیا تائب، خُدا کرے کہ   ملے مہتمم کو بھی توفیق
  دوستی کہتے ہیں کہ کسی شخص کے اخلاق و کردار کے بارے میں جاننا ہو تو اس کے دوستوں کو دیکھ لیا جائے کیوں   کہ’’دوستی‘‘ انسان کی شخصیت پر بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے۔فی زمانہ لوگوں نے دوستی کے مختلف معیار بنا رکھے ہیں۔ چنانچہ کسی کو ہنسی مذاق اور خوب باتیں کرنے والا دوست اچھا لگتا ہے تو کسی کو خوب سیر و تفریح کرنے والا دوست پسند ہوتا ہے کوئی مال و   دولت کی وجہ سے دوستی بناتا ہے تو کوئی حسن و جمال کی وجہ سے۔ کسی کی دوستی صرف اسٹوڈنٹ لائف تک قائم رہتی ہے تو کسی کی ملازمت سے شروع ہو کر ملازمت ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔یوں کہیے کہ مال و   دولت،حسن و جمال اور خواہشات دوستی کے محرکات ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا پیارا دین اسلام اس سلسلےمیں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے ؟چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ( ۱۱۹ ) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کی صحبت اختیار کرو۔ (التوبہ آیت 119) اللہ پاک کے آخری نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ   ارشاد فرماتے ہیں: الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ...
 قال اللہ تعالیٰ  اَیُحِبُّ  اَحَدُکُمْ  اَنۡ یَّاۡکُلَ  لَحْمَ اَخِیۡہِ  مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ  کسی مسلمان کے پوشیدہ عیب کو اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکرکرنا غیبت ہے۔اس کے   حرام قرار دینے میں حکمت مؤمن کی عزّت کی حفاظت ميں مبالَغہ کرنا ہے اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی عزّت و حرمت اور اس کے حُقُوق کی بَہُت زیادہ تاکيد ہے، نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی عزّت کو گوشت اور خون کے ساتھ تَشبیہ دے کر مزید پختہ و مُؤَکَّد کر دیا اور اس کے ساتھ ہی مبالَغہ کرتے ہوئے اسے مُردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مُتَرادِف قرار دیاعزّت کو گوشت سے تَشبيہ دینے کی وجہ يہ ہے کہ انسان کی بے عزّتی کرنے سے وہ ایسی ہی تکليف محسوس کرتا ہے جيسا کہ اس کا گوشت کاٹ کر کھانے سے اس کا بدن درد محسوس کرتا ہے بلکہ اس سے بھی زيادہ۔ کيونکہ عقلمند کے نزديک مسلمان کی عزّت کی قيمت خون اور گوشت سے بڑھ کر ہے۔سمجھدار آدمی جس طرح لوگوں کا گوشت کھانا اچّھا نہيں سمجھتا اسی طرح ان کی عزّت پامال کرنا بدرجہ اَولیٰ اچھا تصوُّر نہيں کرتا کيونکہ يہ ایک تکليف دِہ اَمر(یعنی مُعامَ...

غضب کے محرر

امام اہل سنت اعلی حضرت احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر میں روانی غضب کی،زبان گویا تیرتی چلی جائے۔۔۔چنانچہ " فوزِ مبین در ردِ حرکت زمین" میں جدید اہل فلکیات والوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "وہ نہ طریقِ استدلال جانتے ہیں نہ آداب بحث، کسی بڑے مانے ہوئے کی بے دلیل باتوں کو اصولِ موضوعہ ٹہرا کر ان پر  بے سر و پا تفریعات کرتے چلے جاتے ہیں پھر وثوق وہ کہ گویا آنکھوں سے دیکھی ہیں بلکہ مشاہدے میں علطی پڑ سکتی ہے ان میں نہیں.  ان کے خلاف دلائل قاہرہ ہوں تو وہ سننا نہیں چاہتے، سنیں تو سمجھنا نہیں چاہتے، سمجھیں تو ماننا نہیں چاہتے، دل میں مان بھی جائیں تو اس لکیر سے پھرنا نہیں چاہتے. " آج یہ بات اعلی حضرت کے مخالفین پر صادق آتی ہے،جن کے اذھان متحجر ہو چکے ہیں اور وہ کچھ اور سوچنے سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں. ✍️ علی رضا