Posts

  دوستی کہتے ہیں کہ کسی شخص کے اخلاق و کردار کے بارے میں جاننا ہو تو اس کے دوستوں کو دیکھ لیا جائے کیوں   کہ’’دوستی‘‘ انسان کی شخصیت پر بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے۔فی زمانہ لوگوں نے دوستی کے مختلف معیار بنا رکھے ہیں۔ چنانچہ کسی کو ہنسی مذاق اور خوب باتیں کرنے والا دوست اچھا لگتا ہے تو کسی کو خوب سیر و تفریح کرنے والا دوست پسند ہوتا ہے کوئی مال و   دولت کی وجہ سے دوستی بناتا ہے تو کوئی حسن و جمال کی وجہ سے۔ کسی کی دوستی صرف اسٹوڈنٹ لائف تک قائم رہتی ہے تو کسی کی ملازمت سے شروع ہو کر ملازمت ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔یوں کہیے کہ مال و   دولت،حسن و جمال اور خواہشات دوستی کے محرکات ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا پیارا دین اسلام اس سلسلےمیں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے ؟چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ( ۱۱۹ ) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کی صحبت اختیار کرو۔ (التوبہ آیت 119) اللہ پاک کے آخری نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ   ارشاد فرماتے ہیں: الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ...
 قال اللہ تعالیٰ  اَیُحِبُّ  اَحَدُکُمْ  اَنۡ یَّاۡکُلَ  لَحْمَ اَخِیۡہِ  مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ  کسی مسلمان کے پوشیدہ عیب کو اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکرکرنا غیبت ہے۔اس کے   حرام قرار دینے میں حکمت مؤمن کی عزّت کی حفاظت ميں مبالَغہ کرنا ہے اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی عزّت و حرمت اور اس کے حُقُوق کی بَہُت زیادہ تاکيد ہے، نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی عزّت کو گوشت اور خون کے ساتھ تَشبیہ دے کر مزید پختہ و مُؤَکَّد کر دیا اور اس کے ساتھ ہی مبالَغہ کرتے ہوئے اسے مُردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مُتَرادِف قرار دیاعزّت کو گوشت سے تَشبيہ دینے کی وجہ يہ ہے کہ انسان کی بے عزّتی کرنے سے وہ ایسی ہی تکليف محسوس کرتا ہے جيسا کہ اس کا گوشت کاٹ کر کھانے سے اس کا بدن درد محسوس کرتا ہے بلکہ اس سے بھی زيادہ۔ کيونکہ عقلمند کے نزديک مسلمان کی عزّت کی قيمت خون اور گوشت سے بڑھ کر ہے۔سمجھدار آدمی جس طرح لوگوں کا گوشت کھانا اچّھا نہيں سمجھتا اسی طرح ان کی عزّت پامال کرنا بدرجہ اَولیٰ اچھا تصوُّر نہيں کرتا کيونکہ يہ ایک تکليف دِہ اَمر(یعنی مُعامَ...

غضب کے محرر

امام اہل سنت اعلی حضرت احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر میں روانی غضب کی،زبان گویا تیرتی چلی جائے۔۔۔چنانچہ " فوزِ مبین در ردِ حرکت زمین" میں جدید اہل فلکیات والوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "وہ نہ طریقِ استدلال جانتے ہیں نہ آداب بحث، کسی بڑے مانے ہوئے کی بے دلیل باتوں کو اصولِ موضوعہ ٹہرا کر ان پر  بے سر و پا تفریعات کرتے چلے جاتے ہیں پھر وثوق وہ کہ گویا آنکھوں سے دیکھی ہیں بلکہ مشاہدے میں علطی پڑ سکتی ہے ان میں نہیں.  ان کے خلاف دلائل قاہرہ ہوں تو وہ سننا نہیں چاہتے، سنیں تو سمجھنا نہیں چاہتے، سمجھیں تو ماننا نہیں چاہتے، دل میں مان بھی جائیں تو اس لکیر سے پھرنا نہیں چاہتے. " آج یہ بات اعلی حضرت کے مخالفین پر صادق آتی ہے،جن کے اذھان متحجر ہو چکے ہیں اور وہ کچھ اور سوچنے سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں. ✍️ علی رضا